ایرانی اہل سنت کی خبریں

مولانا کوہی کی رہائی سے اتحاد و یکجہتی کو تقویت ملے گی

زاہدان (سنی آن لائن) ممتاز عالم دین نے مشہد میں قید سنی عالم کی سزا کے حکم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ان کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی نے زاہدان کے اجتماع برائے نماز جمعہ سے نو اکتوبر دوہزار بیس کو خطاب کرتے ہوئے کہا: مولانا فضل الرحمن کوہی علاقے کی علمی اور دینی شخصیات اور رہ نماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو گزشتہ چند مہینوں سے جیل میں ہیں اور حال ہی میں انہیں 76 مہینہ قید کی سزا سنائی گئی ہے جس سے عوام میں سخت تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مولانا کوہی صاحب جذبہ خیرخواہی کے تحت بعض اوقات تنقید کرتے تھے، ہمیں توقع تھی کہ سیاسی اور عدلیہ کے حکام فراخدلی کا مظاہرہ کریں گے اور یہ مسئلہ صوبہ ہی میں حل ہوجائے گا، لیکن یہ مسئلہ بڑا ہوا اور اب انہیں سزا سنائی گئی۔
صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان نے کہا: جہاں تک ہماری اطلاعات ہیں، مولانا فضل الرحمن کوہی ایک نیک اور پرہیزگار آدمی ہیں اور علمائے کرام نے حکام کو لکھے گئے اپنے خطوط میں اس بات کو واضح کیا ہے۔ سرکردہ علمائے کرام نے سپریم لیڈر کے نام لکھے گئے خطوط میں مولانا کوہی کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: علمائے اہل سنت ملک و ملت کے خیرخواہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کوہی بھی اپنی تقریروں میں سرخ لکیروں کو پار نہیں کیا ہے،آپ موجودہ نظام اور رہبرِ اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمیشہ تمام مسالک کی مقدسات کا خیال رکھتے ہیں۔
مولانا قاسمی نے کہا: عدلیہ نظام میں ایک اصول ہے کہ قانون ملزم کے حق میں ہو؛ اگر کسی شخص نے مثلا کوئی بات زبان پر لائی ہے جس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک ملزم کے حق میں اور ایک اس کے خلاف، اس صورت میں ملزم کے حق میں فیصلہ ہوگا۔
استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: حکام کو موجودہ حالات کی نازکی کا علم ہے، ہم اور ہمارے لوگ بھی اچھی طرح وقت کی حساسیت سے واقف ہیں۔ لہذا ایسے میں جب ملک معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ ایک خطرناک بیماری کی زد میں ہے، ہمیں اتحاد و یکجہتی کی مزید ضرورت ہے۔
مولانا مفتی محمدقاسم نے کہا: اگر مولانا فضل الرحمن کی سزا میں نظرثانی کرکے انہیں رہا کیاجائے، اس سے قومی اتحاد و یکجہتی کو تقویت ملے گی اور دشمن کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ عوام پرامن رہیں، اس حوالے سے ضروری کارروائی علمائے کرام کی طرف سے ہوگی اور مولانا فضل الرحمن کوہی کی رہائی کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔ حکام کی فراخدلی کو مدنظر رکھ کر امید کی جاتی ہے جلدازجلد یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ
یاد رہے مولانا فضل الرحمن کوہی کو نومبر 2019ء میں مشہد کی ایک عدالت نے بلانے کے بعد جیل بھیج دیا ہے۔ موصوف ایرانی بلوچستان کے ضلع سرباز میں پشامگ کے خطیب جمعہ اور معروف دینی مدرسہ کے مہتمم ہیں۔

baloch

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

7 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago