مشہد (سنی آن لائن) ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا فضل الرحمٰن کوہی کو مشہد کی ایک عدالت نے ۷۶ مہینہ قید کی سزا سنائی ہے۔ بلوچ عالم دین نومبر ۲۰۱۹ سے جیل میں ہیں۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، مولانا کوہی ضلع سرباز کے علاقہ ’پشامگ‘ کے خطیب جمعہ اور ’انوارالحرمین‘ کے مہتمم ہیں جنہیں اٹھائیس نومبر۲۰۱۹ کو مشہد کی ایک مخصوص عدالت نے پیشی کے لیے بلایا جہاں سکیورٹی اداروں نے انہیں چھ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھی بعد میں رہا کردیے گئے جبکہ انہیں حال ہی میں قید کی سزا سنائی گئی۔
مولانا فضل الرحمن اس سے پہلے بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔ اپریل ۲۰۱۷ میں مشہد کی خصوصی عدالت سے انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا جہاں نو دن قید میں رہنے کے بعد انہیں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی ثالثی اور ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔
بلوچ عالم دین جمعہ کے خطبوں میں بعض حکومتی پالیسیوں کی تنقید کرتے تھے اور شام لڑائی میں بلوچ شہریوں کی بھرتی کے سخت مخالف ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کوہی شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان کے رکن ہیں۔ اس شورا کے ایک اجلاس میں صدر شورا، شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے: مولانا فضل الرحمن کوہی اہل سنت کے مفید علمائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جن کا ریاست مخالف تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی تنقید سے زیادہ سخت تنقید تہران میں ہوتی ہے جو ریاست کے لیے قابل برداشت ہیں، پھر مولانا کوہی کی تنقید کیوں ناقابل برداشت بن چکی ہے؟
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…