جرمنی کی عدالت نے اسکول ٹیچرز کے اسکارف پہننے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی لیبر کورٹ نے ملک بھر میں اسکولوں کی خاتون اساتذہ کے سر پر ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہننے کی پابندی عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے جب کہ وہ عمل ملک میں فساد کا باعث بھی نہ ہو۔
برلن کی عدالت نے یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کے مقدمے میں سنایا جس میں مذکورہ خاتون نے استدعا کی تھی کہ وہ شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور انہیں صرف اس لیے کام کرنے سے روک دیا گیا کیوں کہ وہ ہیڈ اسکارف پہنتی ہیں۔
جرمنی کی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ درخواست گزار کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا جو کہ خلافِ قانون ہے۔ برلن سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے عدالت کے فیصلے کے بعد خواتین اساتذہ کے اسکارف پہننے سے متعلق متنازع قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…