جرمنی کی عدالت نے اسکول ٹیچرز کے اسکارف پہننے پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی وفاقی لیبر کورٹ نے ملک بھر میں اسکولوں کی خاتون اساتذہ کے سر پر ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہننے کی پابندی عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے نہیں روکا جا سکتا ہے جب کہ وہ عمل ملک میں فساد کا باعث بھی نہ ہو۔
برلن کی عدالت نے یہ فیصلہ ایک مسلم خاتون کے مقدمے میں سنایا جس میں مذکورہ خاتون نے استدعا کی تھی کہ وہ شہر کے سرکاری اسکول میں پڑھاتی ہیں اور انہیں صرف اس لیے کام کرنے سے روک دیا گیا کیوں کہ وہ ہیڈ اسکارف پہنتی ہیں۔
جرمنی کی وفاقی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ درخواست گزار کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا گیا جو کہ خلافِ قانون ہے۔ برلن سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے عدالت کے فیصلے کے بعد خواتین اساتذہ کے اسکارف پہننے سے متعلق متنازع قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان