مسلم اقلیتیں

عہدہ سنبھالنے کے پہلے روز ہی ‘مسلمانوں پر پابندی’ کا خاتمہ کروں گا، جو بائیڈن

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ صدر کے عہدے پر آنے کے پہلے دن ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے مسلمانوں پر پابندی کو کالعدم قرار دیں گے اور ایسے اقدامات کی وجہ سے ہونے والے معاشرتی نقصانات کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ شراکت کریں گے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی مسلمانوں کی وکالت کرنے والی تنظیم انگیج ایکشن سے خطاب میں سابق نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت مسلمان سب سے پہلے حملوں کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے الفاظ، اپنی پالیسیوں، اپنی تقرریوں اور اپنے کاموں کے ذریعے پورے ملک میں نفرت کے شعلوں کو جنم دیا ہے، میں پہلے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہی مسلمانوں پر پابندی کو کالعدم کردوں گا’۔
واضح رہے کہ جنوری 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ماہ کے دوران سات مسلم اکثریتی ممالک کے سفر پر پابندی عائد کی تھی۔
اس پابندی کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا اور اس میں چند غیر مسلم ممالک جیسے شمالی کوریا اور وینزویلا کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
مختلف عدالتوں کے بعد بالآخر امریکی سپریم کورٹ نے اس حکم کو برقرار رکھا تھا۔
امریکی میڈیا نے اس حکم کو ‘مسلمانوں پر پابندی’ قرار دیا تھا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے بھی عارضی طور پر مسلمانوں کو امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی صدر نے اس کی وجہ بتائی تھی کہ یہ پابندیاں امریکیوں کو آئندہ دہشت گردانہ حملوں سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔
تنظیم کے سامنے اپنی تقریر میں جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات عائد کیے کہ وہ نفرت کے شعلوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسکولوں میں بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور نفرت انگیز جرائم میں اضافہ سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ہم نے اسلامو فوبیا میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے۔’۔
جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ محکمہ دفاع اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) میں اہم عہدوں پر اسلاموفوبیا پھیلانے والوں کی تقرری کی ہے۔
دن بھر کی مصروفیات کے بعد اس تنظیم نے 3 نومبر کو 10 لاکھ مسلمان ووٹرز کو رائے شماری میں لانے کے عزم کا اظہار کیا۔
تنظیم کے چیئرمین خرم وحید نے کہا کہ یہ گروپ مشی گن، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا جیسے سوئنگ ریاستوں میں کام کرے گا تاکہ وہ مسلمان ووٹرز کو جو بائیڈن کی حمایت کے لیے راضی کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم اس ٹرمپ کی صدارت کے معاشرتی نقصان کو دور کرنے کے لیے آپ کے ساتھ شراکت کرنا چاہتے ہیں’۔
جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا میں مسلمان برادریوں نے سب سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقلیتی گروپوں پراس ‘ناکارہ مسلمانوں پر پابندی’ کے ساتھ حملہ محسوس کیا تھا۔
یہ ابتدا تھی جس کے بعد تقریبا چار سالوں تک مسلمانوں کو دباؤ اور توہین اور مسلمان امریکی برادریوں کے خلاف حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جو بائیڈن نے عہد کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ نفرت انگیز جرائم کی حوصلہ شکنی اور حکام کے ذریعہ مذہبی اور نسلی تبلیغ کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی پر کام کریں گے۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago