ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مسلسل ناکہ بندی اور القدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنا اسرائیل کا بدترین ظلم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی اسرائیلی جرائم پرخاموشی اسرائیلی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انقرہ میں ایک تقریب سے خطاب میں ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کےزیرتسلط فلسطینی علاقے پوری دنیا میں ظلم کا شکار ہونے والے علاقوں میں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کو بے رحمی کے ساتھ ذبح کررہی ہے مگر عالمی ذرائع ابلاغ میں فلسطینیوں کے کشت وخون کی کوئی خبر نہیں چلائی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم پر مجرمانہ خاموشی اسرائیل کے جرائم میں اضافے کا باعث ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کو عالمی قوانین کا پابند بنانے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا غرب اردن اور وادی اردن کو ضم کرنے کا اقدام فلسطینی قوم پر ایک نیا ظلم ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل سے کہے کہ بہت ہوچکا اور اسرائیل کے تمام غیرقانونی اقدامات کی روک تھام کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے میں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں دنیا سے پوچھا تھا کہ ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست کا حدود اربعہ کیا ہے اور اس نام نہاد ریاست کی سرحدیں کہاں کہاں ہیں۔ اسرائیل کی کوئی سرحد نہیں اور وہ مسلسل توسیع پسندی کے راستے پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 1947ء کو فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ اس سے قبل اسرائیل کا وجود کہاں تھا۔ ارض فلسطین پر ریاست قائم کرنے کے بعد صہیونی ریاست مسلسل وسعت پذیر رہی ہے۔ سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مزید علاقے اپنے تسلط میں لیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…