چابہار (سنی آن لائن) جمعرات سات مئی کو ایرانی بلوچستان کے ساحلی شہر کی کچی آبادی ’جنگلوک‘ آگ لگنے سے جھلس کر راکھ بن گئی۔اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
چابہار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، جنگلوگ میں تیس خاندان آباد ہیں جو جھونپڑیوں اور جگھیوں میں رہتے ہیں۔ انہیں پکا مکان بنانے کی اجازت نہیں ہے۔
آگ لگنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے، لیکن بعض مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے کرنٹ آگ لگنے کی وجہ ہوسکتی ہے۔فائربریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ دو گھنٹوں میں وہ آگ پر قابونے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
مقامی باشندوں نے سرکاری خبررساں ادارہ ایرنا کو بتایاہے کہ علاقے کی زمینوں پر مختلف محکموں کی عمارتیں قائم ہوچکی ہیں، لیکن انہیں گھر بنانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
اس آبادی کے اکثر باشندے عام مزدور اور محنت کش ہیں جن کا تعلق بلوچ برادری سے ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…