اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین نے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو الخلیل شہر میں یہودی آباد کاری کا حق ہے۔ نیز غرب اردن، وادی اردن اور بحر مردار کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے امریکا تل ابیب کی ہرممکن مدد کرے گا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے امریکی سفیر کے متنازع بیان پر اپنے رد عمل میں کہا کہ ڈیوڈ فریڈ مین کا بیان فلسطینی قوم کے حقوق پر امریکا کا براہ راست حملہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں مل کر فلسطین کے حوالے سے تاریخی حقائق مسخ کرنے پر کام کر ہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حواری انتہا پسند اور مذہبی جنونی صہیونیوں کے ویژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
حازم قاسم کا کہنا تھا کہ ارض فلسطین کی مالک فلسطینی قوم ہے اور وہی فلسطین کے ایک ایک چپے پر ملکیت کا حق رکھتی ہے۔ فلسطینی قوم اپنے حقوق کے حصول اور قابض صہیونی دشمن کو ملک سے نکال باہر کرنے کے لیے منطقی انجام تک اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔
حماس کے ترجمان کا کہنا تھاکہ مقبوضہ بیت المقدس ہی آزاد اور خود مختار فلسطینی مملکت کا دائمی دارالحکومت ہوگا۔
خیال رہے کہ امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں یہودی آباد کاری کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غرب اردن اور وادی اردن کااسرائیل سے الحاق ہو کررہے گا اور امریکا اس اقدام کی بھرپور حمایت کرے گا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام