سنندج (سنی آن لائن)ایرانی کردستان کے نامور عالم دین کاک حسن امینی نے مولانا فضل الرحمن کوہی کی گرفتاری پر سخت تنقید کرتے ہوئے مولانا اور ان کے ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
کردستان کے معروف عالم دین نے بیان شائع کرتے ہوئے لکھا ہے: آپ (مولانا فضل الرحمن کوہی)بلوچ بھائیوں میں قابل احترام ہیں، بلکہ ایران کی پوری سنی برادری میں مولانا مقبول ہیں؛ چونکہ انہوں نے بہادری سے اہل سنت ایران کے شہری اور مذہبی و قانونی حقوق کا دفاع کیا ہے۔ ان کی گرفتاری پر افسوس اور حیرت ہوتی ہے۔
کاک حسن امینی نے مولانا فضل الرحمن اور ان کے چھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: حکومت سے مطالبہ ہے فی الفور مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو احترام کے ساتھ رہا کرے تاکہ سنی برادری اور ریاست کے درمیان موجود دوری میں مزید گہرائی پیدا نہ ہو۔
یاد رہے مولانا فضل الرحمن کوہی کو گزشتہ جمعرات (اٹھائیس نومبر) کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد کی ایک خصوصی عدالت نے پیشی کے لیے بلایا تھا جہاں انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کے ساتھ جانے والے چھ علمائے کرام اور عمائدین بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے ضلع سربازسے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری پر عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتاہے جنہوں نے ٹائر جلاکر سڑکیں بلاک کردی تھیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید