Women wearing Niqab in Britian. Name: Umm talha al Shaikh. She uses a pseudonym because she is concerned about being harrassed. Her husband is Abu Talha al Shaikh, a graphic artist. She works as a program scheduler at a media company in London. She has worn the niqab consistently for two years, but started wearing it from time to time from 2002. They have been married for two years, she is five months pregnant. Umm Talha wearing the Niqab, taking the underground tube, to meet her husband as he finishes work. credit: Hazel Thompson for the nyt
برطانیہ میں حجاب پہننے والی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ اسلامو فوبیا بڑھنے کی وجہ سے انہیں بھی سابقہ برطانوی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کی طرح سڑک پر قتل کیا جاسکتا ہے۔
برطانوی ٹیبلائیڈ کی رپورٹ کے مطابق ویلز سے تعلق رکھنے والی ایک مسلمان خاتون سحر نے بتایا کہ وہ حجاب پہننے کی وجہ سے خوف زدہ رہتی ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سحر نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ’ناراض سفید فام مرد‘ اپنی نفرت کو مسلمان خواتین تک پھیلا سکتے ہیں۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے سحر نے کہا کہ جب سے بورس جونسن نے ٹیلی گراف میں مسلمان خاتون کے لیے ’لیٹر بکس‘ کا لفظ استعمال کیا ہے تب سے انہیں سفید فام شدت پسندوں کی جانب سے اسی لفظ سے پکارا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں ٹی وی چینل کے اس پروگرام کو ’دیکھنے میں تکلیف دہ‘ اور ’افسوس ناک‘ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں برطانیہ میں مقیم اقلیتوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی وضاحت دیتے ہوئے سحر کا کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ افراد زیادہ تر سفید فام ہیں، وہ غصہ میں ہیں اور اپنا غصہ مسلم خواتین پر اتارنا چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جس چیز کا مجھے سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ جوکوکس کی طرح سڑک پر مارے جانے کا ہے۔
خیال رہے کہ 16 جون 2016 کو ایک سفید فام انتہا پسند شخص نے جوکوکس کو سڑک پر قتل کر دیا تھا۔
اس قاتل کی شناخت تھامس میئر کے نام سے ہوئی تھی جس نے خاتون رکن پارلیمنٹ کو قتل کرنے سے قبل ’پہلے برطانیہ‘ کا نعرہ بھی لگایا تھا جو دائیں بازو کی جماعت کا نام ہے۔
سحر نے پروگرام کے دوران بتایا کہ بطور مسلمان خاتون کے لیے یہاں رہنا آج کل آسان نہیں، خصوصاً اس وقت جب کوئی آپ کو داعش جیسی تنظیم سے تشبیہ دیتا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا خاتون سے نفرت کی ایک قسم بھی ہے، میرا مطلب ہے کہ اس کے زیادہ تر قصور وار سفید فام آدمی ہی ہیں۔
اس پرگرام کے دوران ایک ویڈیو کلپ بھی چلایا گیا جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ایک سفید فام خاتون، باحجاب مسلمان خاتون پر چلا رہی ہے، اسے داعش کی کارندہ قرار دے رہی ہے اور اس کے مخصوص حصے کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔
مذکورہ پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ مسلمانوں پر ہونے والے 56 فیصد تشدد کے واقعات کی سمت مسلمان خواتین کی جانب ہوتی ہے۔
برطانوی ٹیبلائیڈ کے مطابق 2017 کے مقابلے میں 2018 کے دوران مذہبی منافرت کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جن کا شکار بننے والے 50 فیصد مسلمان ہی ہیں۔
یاد رہے کہ جوکوکس ایک برطانوی خاتون سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ تھیں جنہیں ایک مسلح شخص نے بے دردی سے ویسٹ یارکشائر کے علاقے برسٹل میں قتل کردیا تھا۔
اس حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جب مسلح شخص نے خاتون رکن پارلیمنٹ پر حملہ کیا تو اس وقت وہ ’بریٹین فرسٹ‘ چلا رہا تھا۔
انہیں قتل سے 3 ماہ قبل نفرت آمیز ای میلز بھی موصول ہوئی تھیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام