افغانستان میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری کار ٹکرا دی جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ضلعی پولیس کے ہیڈ کوارٹر-6 پر علی الصبح دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری کار ٹکرادی جس کے نتیجے میں 145 افراد زخمی ہوگئے۔ طالبان نے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں 28 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکاروں سمیت خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خود کش کار بمبار حملے کے بعد مسلح افراد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے، پولیس اہلکاروں اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی بعد ازاں حملہ آور پسپا ہوگئے۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پولیس ہیڈ کوارٹر مصروف رہائشی علاقے میں واقع ہے، دھماکا اتنا شدید تھا کہ ہیڈ کوارٹر کے ساتھ بنے درجنوں رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جب کہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید