گزشتہ دنوں قم سے تعلق رکھنے والے شیعہ علما اور دانشوروں کے ایک وفد نے جامعہ دارالعلوم زاہدان اور جامع مسجد مکی کا دورہ کرتے ہوئے یہاں کے اساتذہ و طلبہ سے ملاقاتیں کیں۔ اس وفد میں صوبہ سیستان بلوچستان کے جنرل گورنر اور سپریم لیڈر کے نمائندہ بھی شامل ہوئے تھے۔ وفد کے بعض ارکان نے طلبہ و اساتذہ سے خطاب بھی کیا۔
دارالعلوم زاہدان اہل سنت ایران کا سب سے بڑا دینی و تعلیمی اور ثقافتی ادارہ ہے جو سیاسی طور پر بھی صوبائی و ملکی سطح پرعوام کی رہ نمائی اور ان کے حقوق و مطالبات پیش کرنے کے سلسلے میں کافی سرگرم ہے۔ جامع مسجد مکی جو اسی جامعہ کے ساتھ واقع ہے، سنی برادری کی سب سے بڑی جامع مسجد ہے جو ابھی تک زیر تعمیر ہے اور تکمیل کے بعد اس میں ستر ہزار سے زائد نمازی بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
مذکورہ ادارے کی اہمیت کو سامنے رکھا جائے، ایسے وفود کا یہاں آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لگے گی۔ البتہ ایران کے بعض ہمسایہ ممالک کے برعکس، ایسی ملاقاتوں اور جلسوں کا انعقاد یہاں ایک عام سی بات ہے۔
حال ہی میں آنے والے وفد میں قم میں قائم سرکاری و نیم سرکاری شیعہ جامعات کے دوسرے یا تیسرے درجے کے ذمہ داران شامل تھے، لیکن سماجی و اسلامی روایات و اقدار کا خیال رکھتے ہوئے انہیں اعلی سطحی وفد کا پروٹوکول دیا گیا اور انتہائی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا گیا اور انہیں خوش آمدید کہا گیا۔ حالانکہ جب اہل سنت برادری کے چوٹی کے علمائے کرام اور اسی جامعہ کے صدر و اعلی منتظمین جب قم یا تہران جاتے ہیں، انہیں اتنی پذیرائی نہیں ملتی۔
بہرحال شیعہ و سنی سمیت مختلف مسالک و مذاہب کے پیروکار، خاص کر ان کے دینی پیشوا جو ایک ہی ملک میں رہتے ہیں، انہیں ایسی ملاقاتوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو بہت ساری غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے از حد ضروری ہیں۔ نیز وہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور مشترکہ امور پر بات کرنے کا موقع پاتے ہیں اور اختلافی مسائل کو فرقہ وارانہ جھگڑوں کی شکل اختیار کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ مختلف مسالک کے پیروکاروں میں ایک دوسرے کے بارے میں پائے جانے والی غلط فہمیوں کی ایک بڑی وجہ ان کی دوریاں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago