نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کے بعد آتشیں اسلحے پر پابندی لگا کر رضا کارانہ طور اسلحہ واپس کرنے کی حکومتی مہم میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بڑی تعداد میں اسلحہ جمع کرایا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کے فوری بعد حکومت نے آتشیں اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے عوام سے ممنوعہ اسلحہ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی جس کے لیے حکومت کی جانب سے باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ مہم کے پہلے مرحلے میں ہی 169 افراد نے 224 ممنوعہ اسلحہ جمع کرایا۔
نیوزی لینڈ کی حکومت نے رضا کارانہ طور پر اسلحہ واپس کرنے پر مالکان کو اسلحے کی قیمت بھی ادا کی، حکام نے اسلحہ واپسی مہم کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بتایا کہ رواں برس اسلحہ واپسی کے 258 کیمپ منعقد کیے جائیں گے، جس میں عوام اپنا اسلحہ حکومت کو فروخت کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں آسٹریلوی شخص نے خودکار اسلحے سے نماز جمعہ کے وقت دو مساجد پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس میں 50 نمازی شہید ہوگئے تھے، حکومت نے گن کلچر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو آتشیں اسلحہ واپس کرنے کی ہدایت کی تھی جس کی قیمت مالک کو حکومت ادا کرے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…