جرمنی میں بیک وقت 3 مساجد کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کے بعد مساجد کو خالی کروالیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی کی تین مساجد میں بم کی اطلاع پر بھگڈر مچ گئی، پولیس نے مساجد کو خالی کروا کر سرچ آپریشن کا آغاز کیا تاہم اطلاعات جھوٹی ثابت ہوئیں اور مساجد سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔
بم کی اطلاعات میونخ کے دو اضلاع پاسنگ اور فریئمنگ کی مساجد اور ایک آئسرلوہن کی مسجد کو موصول ہوئی تھیں۔ مساجد میں بم کی اطلاع انتظامیہ کو ای میل کے ذریعے دی گئی تھیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور سائبر فورس کی مدد سے بم کی اطلاع دینے والی ای میلز کی کھوج شروع کردی ہے تاکہ اصل ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
واضح رہے کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نفرت آمیز برتاؤ کا سامنا رہا ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلمانوں پر حملے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان