اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں رواں برس میں عام شہریوں کی اکثریت سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کی معاون مشن UNAMA نے رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں برس دہشت گردی میں 532 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر سیکیورٹی فورسز کی بمباری یا فائرنگ کا شکار بنے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں برس کے پہلے تین ماہ میں افغان اور بین الاقوامی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد طالبان حملوں میں مرنے والوں سے زیادہ ہے۔ ہلاک ہونے والے 532 عام شہریوں میں سے 305 سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جب کہ طالبان حملوں میں 227 عام شہری اپنی جانوں سے گئے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج نے افغانستان میں کئی علاقوں کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا جس میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جب کہ کچھ واقعات میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آکر عام شہری ہلاک ہوئے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار