ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والے مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر 22 مارچ کو دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے تھے جب کہ ان کے 2 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق اور بیت المکرم مسجد کے خطیب مفتی عامر شہاب شدید زخمی ہوگئے تھے جو آج جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ڈائریکٹرجناح اسپتال سیمی جمالی نے بتایا کہ مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں زیر علاج تھے اور حملے میں ان کے جسم کے بالائی حصے پر گولیاں لگی تھیں، وہ تقریباً 13 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہے اور آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان