انتخابات سے پہلے مودی سرکار نے اقلیتوں کے خلاف ایک اور مذموم کارروائی کرتے ہوئے دہائیوں سے آباد سیکڑوں مسلمانوں کے گھر جلا دیئے۔
میڈیا رپورٹس کے بھارت کے شہر میرٹھ میں تجاوزات کے خلاف مہم کی آڑ میں مسلمانوں کے 200 گھر جلا دیے گئے، مقامی انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈ کے ارکان اور پولیس نے 6 مارچ کو میرٹھ کی کچی آبادی بھوسا منڈی میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بستی پر حملہ کیا، ان کے گھر جلا دیے، نہ صرف مردوں اور عورتوں کو مارا پیٹا بلکہ فائرنگ بھی کی۔
دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ علاقے کے لوگوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور اپنے گھروں کو خود آگ لگائی۔ اس دوران 4 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بھوسا منڈی سے مہتاب تھیٹر کے علاقے تک پھیل گیا ۔
پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے دو درجن سے زائد گاڑیاں، موٹر سائیکلوں اور 8 بسوں کو بھی نقصان پہنچایا، بعد میں پولیس نے صورت حال پر قابو پایا۔
انتظامیہ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، مکانات جلنے سے بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور اپنی قیمتی اشیاء سے بھی محروم ہوگئے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام