بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلے نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ متنازع اور تنگ نظر پالیسیوں کے باعث کم درجے کے شہریوں کی محرومیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کہی۔ مشیل باچلے نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ ملک کے اندر ’تقسیم کرنے والی پالیسی‘ سے معاشی مفادات کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
بھارت میں گھٹے ہوئے سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے کمزور طبقہ پہلے ہی مشکل میں ہے۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نے کہا کہ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جن کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں اورخاص طور پر مسلمان، دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان