خلیفہ منصور عباسی کے زمانے میں کسی حاکم نے ایک آدمی کی جاگیر (پراپرٹی) پر ناجائز قبضہ کرلیا۔ وہ آدمی خلیفہ کے دربار میں شکایت لے کر گیا اور عرض کی: اللہ آپ کو سلامت رکھے اے امیر المومنین! میں اپنی حاجت بیان کروں یا کوئی مثال دوں؟
خلیفہ نے کہا: حاجت سے پہلے کوئی مثال ہی بیان کرو۔
وہ آدمی گویا ہوا:
بچے کو جب کسی ناپسندیدہ بات کا سامنا ہوتا ہے تو ماں سے بڑھ کر کوئی دوسرا اس کا مددگار نہیں ہوتا۔ جب کچھ ہوش مند ہوتا ہے تو اپنے باپ سے شکایت کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ماں سے زیادہ اس کا باپ اس کا مددگار ہوسکتا ہے۔ پھر جب جوان ہوجاتا ہے تو اپنی شکایت حاکم کے پاس لے جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کے مقابلے میں حاکم کے پاس زیادہ طاقت ہے۔ پھر جب اس کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے تو اپنا مسئلہ سلطان کے دربار میں پیش کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ سلطان سب لوگوں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ لیکن جب اسے بادشاہ کے دربار میں بھی انصاف نہیں ملتا تو پھر اللہ تعالی کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
مجھے بھی ایک مصیبت آپڑی ہے اور شکایت لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سے زیادہ طاقت ور اس روئے زمین پر کوئی نہیں۔ اگر آپ نے میرے ساتھ انصاف کردیا تو ٹھیک ورنہ میں انصاف کے لئے اللہ تعالی کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
خلیفہ منصور نے کہا:
ہم تمہارے ساتھ انصاف ہی کریں گے۔
اس نے بتایا کہ آپ کے فلاں حاکم نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کرلیا ہے۔ خلیفہ نے اپنے حاکم کو جاگیر واپس کرنے کا حکم دیا اور اس کو لکھا کہ اس آدمی کے لئے اسباب راحت مہیا کرو اور اس کی معیشت کو تشفی بخش بناؤ۔ (اس کی زندگی کو آرام دہ بناؤ)
فائدہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میدان محشر میں سات آدمی ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دیں گے، جس دن اللہ کے عرش کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں سے ایک عادل بادشاہ ہوگا، جس نے دنیا میں لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا ہوگا۔ مذکورہ واقعہ میں خلیفہ منصور عباسی نے اپنے حاکم اور وزیر کی رعایت کے بغیر اس عام آدمی کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا اور اپنے وزیر کو زمین واپس کرنے کا حکم دیا۔ اسلام عدل و انصاف ہی کا دوسرا نام ہے، اس لئے ہمیں اپنوں اور غیروں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرنا چاہئے تا کہ ہم بھی اللہ کے عرش کے سائے میں جگہ پاسکیں۔ اس لئے آپ کے سامنے جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے، تو اس میں انصاف سے کام لیں۔
(ابوجعفر منصور (۱۳۶ھ تا ۱۵۸ھ) دوسرا خلیفہ عباسی خلیفہ تھا جو اپنے بھائی ابوعبداللہ سفاح کی وفات پر تخت نشیں ہوا۔ اس نے عباسی خلافت کو مستحکم اور مضبوط کیا اور بغداد کو دارالحکومت بنایا۔ وہ اپنے بیٹے جعفر کی نسبت سے ابوجعفر کہلاتا تھا۔ زبیدہ جعفر ہی کی بیٹی تھی جو بعد میں اپنے چچازاد ہارون رشید کی ملکہ بنی۔ منصور کے بعد اس کا بیٹا مہدی تخت خلافت پر بیٹھا۔)
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام