بندرعباس (سنی آن لائن) ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان سے تعلق رکھنے والے متعدد سنی علمائے کرام و دانشوروں نے صدر روحانی کے نام کھلا خط شائع کرتے ہوئے سنی برادری کے مسائل ، خاص کر امتیازی رویوں کے بارے میں شکوہ کیاہے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (سنی آن لائن ڈاٹ یو ایس) کو مذکورہ خط کی کاپی موصول ہوچکی ہے جس میں صدر روحانی کے نمائندوں اور مقامی حکام کے غیرذمہ دارانہ رویہ سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔
صوبہ ہرمزگان کی سنی شخصیات نے واضح کیا ہے وہاں ایسے علاقے بھی ہیں جنہوں نے ستر سے پچانوے فیصد تک ووٹ صدر روحانی کے نام ڈالاہے، اس کے باوجود حکومت کی طرف سے ان کے جائز حقوق اور مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
ہرمزگان ایران کے ان صوبوں میں شمار ہوتاہے جہاں سنی برادری کی آبادی زیادہ ہے۔ غیرسرکاری اعداد وشمار کے مطابق کم از کم اس صوبے کی چالیس فیصد اہل سنت پر مشتمل ہے۔ بندر خمیر، بستک، قشم، جاسک اور سیریک اضلاع میں سنی برادری اکثریت میں ہیں۔
مذکورہ خط کے مطابق، عوامی اعتماد کی قوت کسی بھی میزائل، ڈرون طیارے اور ٹیکنالوجی سے زیادہ ہے۔ آج ناامیدی اور اعتماد کی کمی ہم سب کے مشترکہ اثاثہ یعنی ایران کو خطرے میں ڈال چکی ہیں۔
انہوں نے صدر روحانی کے درمیانی اور صوبائی ایجنٹس اور حکام سے شکوہ کیا ہے جو روحانی کے بیانیے اور سوچ کے خلاف کام کرتے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…