ایرانی اہل سنت کی خبریں

عملی اتحاد کی راہ میں آڑے رکاوٹوں اور پالیسیوں کو دور کریں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سولہ نومبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں عملی اتحاد تک پہنچنے کا نسخہ پیش کرتے ہوئے اس حوالے سے موجود بعض پالیسیوں میں تبدیلی پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کے دوران ایران میں میلاد النبیﷺ کی مناسبت سے منائے جانے والے ’ہفتہ وحدت‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اتحاد بین المسلمین انتہائی اہم مسئلہ ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک اتحاد عملی طورپر قائم نہیں ہواہے۔ دنیا والے عملی اتحاد ہی کو خیرمقدم کہتے ہیں۔ ہم نے عملی اتحاد تک پہنچنے کے متعدد مواقع کو ہاتھ سے گنوایاہے۔
انہوں نے مزید کہا: اتحاد تک پہنچنے کے لیے بہترین راستہ باہمی احترام اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنا ہے۔ مساوی رویہ اور برابری کے ساتھ ساتھ نفاذِ عدل سماج کے تمام افراد اور برادریوں کو متحد رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ عدل و انصاف سے سماج میں اتحاد کی فضا قائم ہوجائے گی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے ’حقیقی اور عملی اتحاد‘ پر زور دیتے ہوئے کہا: اتحاد دکھاوے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں حقیقی اور عملی اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمارے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیں اور مسالک اور اقوام و برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا کریں۔ عملی اتحاد کے حصول کے لیے کوشش کرنا اسی لیے اہم ہے۔
انہوں نے مزید کہا: عملی اتحاد نگاہوں کی اصلاح اور نفاذِ عدل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مطالعہ کیاجائے چالیس سالوں کے بعد کیوں ہم عملی اور حقیقی اتحاد حاصل نہیں کرسکے۔ بہت ساری پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، نیز نگاہوں میں وسعت لانا اور فراخدلی کا مظاہرہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اتحاد بین المسلمین بہت اہم اور قیمتی مسئلہ ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کلمہ توحید اور مشترکہ مسائل پر متحد ہوجائیں۔ اتحاد کے کچھ اخراجات بھی ہیں؛ مسلمانوں کو چاہیے حقیقی اتحاد تک پہنچنے کے لیے قربانی دیں اور اس کے ہرطرح کے اخراجات برداشت کریں۔

اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے صوبہ سیستان بلوچستان کے نئے گورنر کی تقرری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: نئے صوبائی گورنر صوبے کے حالات سے کافی واقفیت رکھتے ہیں اور یک معتدل مزاج آدمی بھی ہیں۔ امید ہے مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں اور جب ان کی خدمت کا وقت ختم ہوجائے، لوگ ان کے جانے پر افسوس کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: حکام اور تمام ذمہ داران ایسا رویہ نہ اپنائیں کہ لوگ ان کے جانے اور جلد برطرفی کی دعا مانگیں۔ بلکہ عوام کا اس قدر خیال رکھیں کہ لوگ انہیں یاد کرتے رہیں اور ان کے جانے پر افسوس کرتے رہیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago