تہران (سنی آن لائن) ایرانی دارالحکومت تہران میں سنی برادری کے بعض نمازخانوں کو سیل کرکے انہیں عیدالاضحی کے دن نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے۔
سنی آن لائن کو تہران سے باخبر ذرائع نے اطلاع دی کہ سکیورٹی فورسز نے بعض نمازخانوں کے آس پاس کھڑے ہوکر نمازیوں کو منتشر کرگئے اور انہیں نمازخانوں کی طرف جانے سے منع کیا گیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سنی سماجی کارکن نے ’سنی آن لائن‘ کو بتایا کہ عید سے ایک دن پہلے سکیورٹی پولیس نے بہت سارے نمازخانوں کی عاملہ کمیٹی کے ارکان کو بلایا اور کسی قانونی دستاویز دکھائے بغیر نماز عید قائم نہ کرنے کی تاکید کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جن نمازخانوں میں اہل سنت کو نماز عید قائم کرنے سے روکا گیا ہے رسالت، یافت آباد، پونک اور خلیج فارس کے نمازخانے ان میں شامل ہیں۔
اس سلسلے میں عید کے دن انجینئر علیم یارمحمدی (زاہدان سے منتخب رکن پارلیمنٹ) اور ڈاکٹر ذوالفقارطلب (اقوام و مسالک کے امور میں صدر مملکت کے معین خاص کے سنی مشیر) کی موجودی میں مذکورہ نمازخانوں کے کمیٹی ممبران نے ہاشمی نمازخانہ میں مشاورت کی۔ اس میٹنگ میں موجودہ مشکلات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیاگیا۔
یاد رہے بعض دیگر نمازخانوں میں سنی مسلمانوں نے تہران میٹروپولیس میں نماز عید قائم کی۔
تہران میں دس لاکھ سے زائد سنی شہری رہتے ہیں جن کی اپنی کوئی مسجد نہیں ہے اور نہ ہی انہیں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ تہران میں سنی مسجد کا مسئلہ سنی رہ نماوں اور کارکنوں کے اہم مطالبات میں شامل ہے جس پر اب تک حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…