ڈنمارک کی پارلیمنٹ نے نقاب اور برقعے پر پابندی کا قانون منظور کرلیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے نقاب اور برقعے پر پابندی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جو منظور ہوگیا، پابندی کے حق میں 75 جب کہ مخالفت میں 30 ووٹ آئے تاہم 74 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
برقعے اور نقاب پر پابندی کے بعد اب خواتین پورے چہرے کو ڈھانپ نہیں سکیں گی تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ خواتین سر پر اسکارف اوڑھ سکتی ہیں کیونکہ یہ بعض مذاہب کی روایت ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ پابندی کا مقصد کسی مذہب کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔
ڈنمارک میں نقاب پر پابندی کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا اورخلاف ورزی پر بھاری جرمانہ بھی اداکرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے قبل آسٹریا، فرانس اور بیلجیم میں اسی طرح کا قانون منظورہوچکا ہے اور اب ڈنمارک بھی اب ان یورپی ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے جہاں خواتین کے حجاب پر پابندی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان