اسرائیلی فوج کی غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والے فلسطینی باشندوں پر وحشیانہ فائرنگ اور شیلنگ سے 8 فلسطینی شہید اور 780 زخمی ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک کے دوسرے جمعے کو بھی غزہ کی سرحد پر ہزاروں فلسطینیوں نے احتجاج کیا جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ مظاہرین نے سرحد پر ٹائر جلائے اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں نعرے بازی کی۔
نہتے مظاہرین کے خلاف اسرائیل فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کرکے مزید 8 نوجواں کو شہید کردیا جس کے بعد 30 مارچ ’یوم الارض‘ سے اب تک شہدا کی تعداد 27 ہوگئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 2000 سے زائد ہوگئی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ سے اب تک زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 780 سے تجاوز ہوچکی ہے جس میں سات خواتین اور 31 بچے بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق سر اور جسم کے اوپری حصے میں گولیاں لگنے والےمتعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں مہاجرین، ڈاکٹرز، وکلاء، یونیورسٹی طلباء، درس و تدریس سے وابستہ افراد، سول سوسائٹی اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔
یہ احتجاجی مہم 30 مارچ سے 15 مئی تک جاری رہے گی جو کہ 70 سال قبل 1948ء میں اپنے گھروں سے نکالے گئے ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کی یاد میں ہرسال چلائی جاتی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار