برطانیہ میں مسلمانوں سےنفرت کااظہارکرنےکادن’پنش اے مسلم ڈے‘ منانے والوں کوناکام بنادیاگیا۔ لندن سمیت مختلف شہروں میں مسلم کمیونٹی کے افرادبےخطرباہرنکلےاورمعمولات زندگی جاری رکھے۔
برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس ملک کے مختلف شہروں میں متعدد افراد کو ملنے والے اس نفرت انگیز خط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں مسلمانوں پر حملوں کی ترغیب دی گئی ہے.
اس خط میں 3 اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کا کہا گیا تھا۔برٹش مسلمانوں نےنفرت کاپرچارکرنیوالوں کی دھمکیاں نظرانداز کردیں،مختلف شہروں میں پرامن مظاہرےکیےگئے ۔
برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی نے پنش اےمسلم ڈے کو مسلمانوں سے محبت ’ لو اے مسلم ڈے‘ کےطورپر منایا۔
ہیلی فیکس میں مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کرنےوالوں میں حکمراں جماعت کےاراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔
اسکاٹ لینڈمیں بھی نسل پرست اپنےمزموم عزائم میں کامیاب نہ ہوسکےاورمسلمانوں نےمختلف علاقوں میں تحائف بانٹ کر لوگوں کےدل جیت لیے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان