عالم اسلام

مشرقی الغوطہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود فضائی حملے جاری ،37 افراد ہلاک

شام میں باغیوں کے زیر قبضہ اور فوج کے محاصرے کا شکار علاقے مشرقی الغوطہ میں جنگ بندی کے لیے کوششوں کے باوجود دو قصبوں پر اسدی فوج یا روسی طیاروں نے فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایک زیر زمین محفوظ پناہ گاہ میں موجود سینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق جمعہ کی صبح عین طرما اور زملکا پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جبکہ شامی فورسز نے ایک اور قصبے حزہ کی جانب رات جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد پیش قدمی کی ہے۔
رصدگاہ کا کہنا ہے کہ دوما پر بھی شامی فوج نے فضائی حملے کیے ہیں اور شہر میں جیش الاسلام کے جنگجوؤں اور شامی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ان فضائی حملوں کے بعد باغیوں نے عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے جنگ بندی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
قبل ازیں ایک باغی گروپ فیلق الرحمان کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حرستا میں جنگ بندی کے سمجھوتے پر اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ شام میں گذشتہ سات سال سے جاری جنگ کے دورا ن میں اسدی فوج اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف قصبوں پر تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں اور اسدی فورسز اور باغی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔
مگر مشرقی الغوطہ کو مفتوح کرنے کے لیے بھی شامی حکومت نے وہی جنگی حربہ استعمال کیا ہے جو وہ ستمبر 2015ء میں روس کی اس جنگ میں مداخلت کے بعد سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔
اس کے تحت شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں ایسے علاقے کی پہلی ناکا بندی کرتی ہیں، مکینوں کا قحط سے دوچار کیا جاتا ہے، ان پر فضائی بمباری کی جاتی ہے، پھر زمینی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور سمجھوتے کے بعد باغیوں اور ان کے خاندانوں کو محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔

باغیوں اور ان کے خاندانوں کی ادلب آمد
دریں اثناء مشرقی الغوطہ کے ایک اور قصبے حرستا سے جمعرات کو روانہ ہونے والے سیکڑوں باغی جنگجو اور ان کے خاندان شمال مغربی صوبے ادلب میں پہنچ گئے ہیں۔اس قصبے سے احرار الشام کے جنگجوؤں اور ان کے حامی شہریوں کے انخلا کے لیے بدھ کو ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور انھیں سرکاری بسوں میں ادلب بھیجا گیا ہے۔حرستا سے آج دوسرے گروپ کا انخلا ہونا تھا۔
مشرقی الغوطہ کے گنجان آباد شہر دوما پر ابھی تک جیش الاسلام کا کنٹرول برقرار ہے جبکہ شامی فوج نے اس کا محاصرہ کررکھا ہے۔اس کے علاوہ تین قصبوں طرما ، عربین اور زملکا پر ایک اور باغی فیلق الرحمان کا کنٹرول برقرار ہے۔
دوما سے بھی ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر اسد رجیم کے عمل داری والے علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔دوما مشرقی الغوطہ میں سب سے گنجان آباد علاقہ ہے اور شامی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے سے اس کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔ اس پر قابض باغی گروپ جیش الاسلام نے تادم مرگ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے۔تاہم شامی رصدگاہ کے مطابق دوما سے گھربار چھوڑ کر آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ جیش الاسلام اور شامی حکومت کے قریبی اتحادی روس کے درمیان سمجھوتے کے بعد شہر خالی کررہے ہیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago