ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوج نے شام کے شہر عفرین پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے وہاں ترکی کا پرچم بھی لہرا دیا ہے۔
ایردوآن نے اتوار کے روز بتایا کہ عفرین شہر کا مرکز مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور شہر میں ترکی کے پرچم بلند کر دیے گئے ہیں۔
شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ شامی آبزرویٹری کے مطابق ترکی کی فورسز اپنے ہمنوا شامی گروپوں کے ساتھ اتوار کے روز شمالی شام میں کرد اکثریت والے شہر عفرین میں داخل ہو گئیں۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا ہے کہ اس وقت شہر میں جھڑپیں جاری ہیں۔
شام میں ترکی کی حمایت یافتہ جیشِ حُر کے ترجمان محمد الحمدین کے مطابق اپوزیشن گروپوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو اتوار کے روز صبح صادق سے کچھ دیر پہلے عفرین میں داخل ہوئے اور شامی کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے جنگجوؤں کے انخلاء کے بعد شہر کے مختلف حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ الحمدین کا کہنا تھا کہ شامی جیشِ حُر کے جنگجوؤں کو ابھی تک کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ترکی کی فورسز اور اس کو سپورٹ کرنے والی جیشِ حُر کے گروپوں نے علاقے کے زیادہ تر رقبے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عفرین شہر کا تین طرف سے محاصرہ کر لیا تھا۔
آبزرویٹری کے مطابق ترکی کے فوجی آپریشن کے نتیجے میں گزشتہ بدھ سے اب تک 2 لاکھ سے زیادہ شہری عفرین چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان