تہران سے منتخب ایک رکن پارلیمان نے کہا ہے ملکی آئین میں اصلاح اور تبدیلی لانا ضروری ہے اور ایسا کرنا کوئی ’کفر‘ نہیں ہے۔
سنی آن لائن نے برنا نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ دی، محمدجواد فتحی نے کہاہے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر آئین کی اصلاح ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: آئین کو مقدس کتاب نہیں جس پر تنقید کرنا منع ہو،اس کی کچھ شقوں میں تبدیلی لانا وقت کا تقاضا ہے۔
محمدجواد فتحی نے کہاہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں آئین کوئی مقدس کتاب ہے جس میں کوئی اصلاح لانا گناہ ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ملکوں نے اپنے قوانین میں کئی مرتبہ ضروری تبدیلیاں لائی ہے۔
یاد رہے آئین کی رو سے شیعہ مسلک ہی کے پیروکار حضرات ملک کے صدر اور مرشد اعلی بن سکتے ہیں۔ دیگر عہدوں کے لیے ایسی کوئی آئینی پابندی نہیں ہے، لیکن انقلاب سے اب تک سنی برادری کو وزارت اور صوبائی گورنری کے عہدوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

baloch

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

2 days ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

2 days ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

4 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

4 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago