خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تئیس فروری دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں شامی دارالحکومت کے علاقے ’مشرقی غوطہ‘ کے عوام کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں سے دعا کی اپیل کی۔
مولانا عبدالحمید نے غوطہ میں روسی اور شامی افواج کی بمباری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: آج کل دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو درندہ خوئی اور سربریت میں جانوروں سے بھی آگے جاچکے ہیں۔ وحشی جانوروں نے اتنے لوگوں کو نہیں مارا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مشرقی غوطہ ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں خون کی نہریں جاری ہیں اور نہتے لوگ بشمول خواتین، بچے اور بوڑھے افراد کا قتل عام زورشور سے جاری ہے۔ سب مسلمانوں سے ان مظلوموں کی نجات کے لیے دعا مانگتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: امریکا، روس اور خطے کے بعض ممالک نہتے اور معصوم شہریوں کے قتل عام کے لیے تیار رہتے ہیں اور انہیں قتل و خوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے عالمی برادری کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: دنیا میں انسانیت کی پرواہ کرنے والے بہت کم ہیں؛ دنیا کے مظلوموں کے لیے کوئی شخص شفقت نہیں دکھاتاہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے قتل عام کے ایسے واقعات کی روک تھام سے عاجز ہیں۔ اقوام متحدہ اور امن کونسل بے اثر اور ناکام ادارے بن چکے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: دنیا کی طاقتوں نے منازعات اور جھڑپوں کو جامع حکومتوں کی تشکیل سے ختم کرنے کے بجائے الٹا ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے بہانے سے مسلمانوں کو قتل عام کیا ہے اور ان کے ممالک، ادارے اور تنصیبات کو تباہ کرڈالاہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان