امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرکنٹرول صرف 18فیصد علاقہ رہ گیا ہے، امریکی اخبار کے مطابق زیر کنٹرول حصے پر بھی حکومتی گروپوں میں چپقلش انتہا پر ہے۔
اس سے پہلے شمالی افغان صوبہ بلخ کے گورنر عطا محمد نور استعفیٰ دے کر سبکدوش ہونے سے انکار کرچکے ہیں، ساتھ ہی کئی گورنر صدر اشرف غنی کے قابو میں نہیں ہیں۔
مخالف گورنروں سمیت افغان صدر بھی طالبان کے خلاف ہیں لیکن ان کی آپس کی لڑائی امریکا کو مزید مشکلات سے دوچار دیتی ہے جبکہ امریکا باغیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف بم حملہ مہم بھی شروع کی تھی۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام