An Israeli F15 fighter jet takes off during a joint international aerial training exercise hosted by Israel and dubbed "Blue Flag 2017" at Ovda military air base in southern Israel November 8, 2017. Picture taken November 8, 2017. REUTERS/Amir Cohen - RC1A3ED51600
اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے پیر کو علی الصباح شمالی غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔
صہیونی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل پر کئے جانے والے راکٹ حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔ بیان میں دعوی کیا گیا ہے لڑاکا طیاروں کے حملے میں حماس کے تین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ غزہ کی وازرت صحت نے حملوں کے بعد ابھی تک شہید یا زخمیوں سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔
اتوار کی شب غزہ سے دو راکٹ فائر کئے گئے جن میں ایک اسرائیلی علاقے میں سرحدی کے قریب گرا جبکہ دوسرا راکٹ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
گذشتہ روز حماس کی جانب سے داغے والے راکٹوں کے بعد تین دن سے موجود امن کی وہ فضا ختم ہو گئی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ دسمبر کو القدس الشریف کو اسرائیلی دارلحکومت قرار دینے کے اعلان کے بعد فلسطینیوں سمیت دنیا بھر میں غم وغصے کی لہر کی صورت میں سامنے آئے تھی۔ ٹرمپ کے اعلان القدس کے بعد سے فلسطینی اور عسکریت پسند گروہ اسرائیلی علاقوں پر مارٹر گولے اور راکٹ فائر کر کے اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کے القدس کو اسرائیلی صدر مقام قرار دیئے جانے کے بعد سے فلسطین کے طول وعرض میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور اسرائیلی فوج سے جھڑلوں میں کم سے کم چھ افراد شہید ہو گئے تھے۔ اسرائیلی طیاروں کیی غزہ پر بمباری میں ابتک دو فلسطینی شہید ہونے کی اطلاع ہے۔
غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے نستبا غیر معروف چھوٹی مزاحمتی تنظیمیں کرتی ہیں تاہم اسرائیل ان کی ذمہ داری ہمیشہ حماس پر عائد کرتا ہے۔ پیر کے روز جاری کردہ اسرائیلی عسکری بیان میں حماس کو غزہ سے کئے جانے والے معاندانہ راکٹ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار