حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت حکیم الامت قدس اللہ سرہ کو دین کی صحیح فہم عطا فرمائی، اور دین کے مخفی گوشوں کو آشکارکرنے اور ملفوظات میں جگہ جگہ اس پر تنبیہ فرمانے کی توفیق انہیں نصیب ہوئی۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ فرماتے ہیں: سفارش اس طرح نہ کراؤ جس سے دوسرا آدمی مغلوب ہوجائے۔ جس سے دباؤ پڑے، یہ سفارش جائز نہیں، اس لئے کہ سفارش کی حقیقت ”توجہ دلانا“ ہے کہ میرے نزدیک یہ شخص حاجت مند ہے، اور میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں کہ یہ اچھا مصرف ہے۔ اس پر اگر آپ کچھ خرچ کردیں گے تو ان شاءاللہ اجر و ثواب ہوگا۔ یہ نہیں کہ اس کام کو ضرور کرو، اگر تم نہیں کروگے تو میں ناراض ہوجاؤں گا، خفا ہوجاؤں گا، یہ سفارش نہیں ہے۔ یہ دباؤ ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان