بھارت میں پولیس نےانتخابی جلسے میں شریک ایک مسلمان خاتون کا برقعہ زبردستی اتروادیا۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت کا اقلیتوں کی نام نہاد مذہبی آزادی کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔ریاست اتر پردیش میں انتخابی مہم کے دوران وزیراعلیٰ یوگی آدتیاناتھ کی موجودگی میں پنڈال کی سیکورٹی پر مامور خاتون پولیس افسر نے برقعے میں ملبوس مسلمان خاتون کو سرِ عام بے حجاب ہونے پر مجبور کردیا۔پولیس افسر کے حکم پر خاتون نے پہلے حجاب ہٹایا تاہم افسر کو اطمینان نہ ہوا تو سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر بھرے مجمے میں پورا برقعہ اتروادیا۔
مذکورہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ اس کا نام سائرہ ہے اور وہ بلدیات کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں جب کہ وہ اپنے آبائی گاؤں سے برقعہ پہن کریہاں تک آئی اور اس اسلامی پردے پر کسی نے اسے نہیں روکا۔
دوسری جانب واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان