افغان دارالحکومت کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 13افرادہلاک ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا کابل کے سفارتی علاقے وزیراکبر خان میں ہوا جہاں غیر ملکی سفارتخانوں سمیت کئی اہم سرکاری عمارتیں اور بین الاقوامی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔
افغان وزارت داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 13افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز علاقے میں پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کوگھیرے میں لے لیا جب کہ ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا۔
فوری طور پر کسی گروپ یا تنظیم نے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان