عرب ممالک میں متحدہ امریکہ کی مشرق وسطی پالیسیوں کے خلاف رد عمل میں اضافے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔
عرب سنٹر واشنگٹن اور عرب سنٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی سٹیڈیز نے 8 عرب ملکوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ملک کی خارجہ پالیسیوں کے حوالے سے سر انجام دیے گئے ایک سروے کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے مطابق 61 فیصد عرب باشندے امریکی خارجہ پالیسیوں سے نالاں ہیں۔
58 فیصد شرکاء سروے نے ٹرمپ کے حوالے سے منفی خیالات کا اظہار کیا ہے تو 56 فیصد کے مطابق ٹرمپ مسلمان مخالف لیڈر ہیں۔
محض 17 فیصد نے ٹرمپ کی صدارت میں عالم عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کا کہا ہے۔ اس نظریے کے حامل لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان