تہران (سنی آن لائن) سابق سنی رکن پارلیمنٹ نے وزارت داخلہ کے قائم مقام کے حوالے سے کہا ہے ان سے کہا گیا ہے اہل سنت کو صوبائی گورنر بننے کی ’اجازت‘ نہیں ہے اور انہیں سنی گورنر انتخاب کرنے سے ’منع‘ کیا گیا ہے۔
ایران کے شمال مغربی شہروں پیرانشہر اور سردشت سے منتخب سابق رکن پارلیمان ’حاصل داسہ‘ نے ڈپٹی وزیر داخلہ سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی مہم کی ویب سائٹ کو انٹرویو میں کہا: حال ہی میں جب میں اور ڈاکٹر جلال جلالی زادہ (سابق رکن پارلیمنٹ) قائم مقام وزیر داخلہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا وزارت داخلہ اہل سنت برادری سے کوئی گورنر تعین نہیں کرسکتی ہے۔
مسٹر داسہ نے کہا ہے وزارت داخلہ کے اس اعلی عہدیدار نے واضح کیا ہے ’اہل سنت کو بھول جائیں‘، ’ہم سنی برادری سے گورنر متعین نہیں کرسکتے اور ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے‘۔
یاد رہے موجودہ حکومت اہل سنت برادری ہی کے ووٹ سے کامیاب ہوئی جس سے امید کی جاتی تھی کہ کابینہ میں اہل سنت کو شمولیت دے۔ لیکن اب تک حسن روحانی کی ’اعتدال پسند‘ حکومت نے اکتیس صوبوں میں سے ایک کے لیے بھی کوئی سنی گورنر متعین نہیں کیا ہے۔
اہل سنت ایران کی آبادی پوری آبادی کی بیس فیصد ہے جو عام طور پر سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں۔ صوبہ سیستان بلوچستان، کردستان، ہرمزگان، مغربی آذربائیجان، کرمانشاہ، گلستان اور خراسان رضوی میں ان کی آبادی بہت زیادہ ہے یا وہ اکثریت میں ہیں۔
آئین کے رو سے غیرشعیہ شہری صرف صدر مملکت نہیں بن سکتے اور آئین میں تسلیم شدہ مذاہب کے پیروکار وزیر یا گورنر متعین ہوسکتے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار