فرانس کے ارب پتی تاجر نے آسٹریا میں برقع پہننے والی تمام خواتین کے جرمانے بھرنے کا اعلان کیا ہے۔
آسٹریا کی حکومت نے یکم اکتوبر سے خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی خلاف ورزی پر ڈیڑھ سو یورو (19 ہزار روپے) جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ الجزائری نژاد فرانسیسی ارب پتی پراپرٹی ڈیلر راشد نقاز نے آسٹریا کی مسلمان خواتین سے کہا کہ برقعہ آپ پہنیں جرمانہ میں بھروں گا۔ آسٹرین میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راشد نقاز نے کہا کہ میں پورے یورپ بالخصوص آسٹریا کی خواتین سے کہتا ہوں کہ آپ برقعہ پہنیں جرمانہ میں بھروں گا، اگر یورپی حکومتیں مذہبی آزادی کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں تو پھر انہیں مذہبی شعائر بھی تسلیم کرنے ہوں گے، جب کہ میں لوگوں کے مذہبی عقائد کے کھلے اظہار پر یقین رکھتا ہوں۔
واضح رہے کہ راشد نقاذ فرانس، بیلجیئم، ہالینڈ اور سوئٹرزلینڈ سمیت ان ممالک میں مسلمان خواتین کے جرمانے ادا کر چکے ہیں جہاں برقعہ پر پابندی عائد ہے۔ انہوں نے ایک خصوصی ادارہ بھی قائم کر رکھا ہے جس کا نام ’میرے آئین کو نہ چھیڑو‘ ہے۔ یہ ادارہ برقعہ پہننے والی مسلمان خواتین کے جرمانے ادا کرتا ہے اور اب تک مختلف ممالک میں 3 لاکھ یورو (3 کروڑ 79 لاکھ روپے) اس کام پر خرچ کر چکا ہے۔ دوسری جانب سے آسٹریا کے وزیر خارجہ سباستیان کرز نے راشد نقاذ کے اس اعلان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نقاب پہننے والی خواتین کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا جب کہ راشد نے اگر اس کی حوصلہ افزائی کی تو ان پر بھی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…