امریکی ریاست مینیسوٹا میں مسجد پر بم حملہ ہوا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق مینیسوٹا میں نماز فجر کے دوران مسجد الفاروق پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا۔ امریکی محکمہ ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ایف بی آئی کے افسر رچرڈ تھورٹن نے بتایا کہ تحقیقات میں معلوم کیا جائے گا کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم ہے یا اس کا محرک کوئی اور ہے۔ ابتدائی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ مسجد کو آئی ای ڈی (دھماکہ خیز ڈیوائس) سے نشانہ بنایا گیا جس کے پرزہ جات جائے وقوع سے ملے ہیں جن کا جائزہ لے کر ملزمان تک پہنچے جائے گا۔
مسلم امریکن سوسائٹی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد مسجد میں آگ لگ گئی لیکن نمازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے قبل ہی آگ پر قابو پالیا۔
عینی شاہد اسد زمان نے صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم کار سوار ملزمان چلتی گاڑی سے مسجد پر پھینک کر فرار ہوگئے۔ مسجد کے منتظمین نے بتایا کہ امریکا میں دیگر مسجد کی طرح مسجد الفاروق کو بھی دھمکی خیز فون اور ای میلز موصول ہوئی تھیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…