افغانستان میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکا افغان شہر ہرات کی جوادیہ مسجد میں ہوا جب لوگ نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکا ممکنہ طور پر کار بم کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد دوسرے حملہ آور نے نمازیوں پر فائرنگ کردی۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ ہرات کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے اور عام طور پر یہ افغانستان کے پر امن ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…