افغانستان میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکا افغان شہر ہرات کی جوادیہ مسجد میں ہوا جب لوگ نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکا ممکنہ طور پر کار بم کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد دوسرے حملہ آور نے نمازیوں پر فائرنگ کردی۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ ہرات کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے اور عام طور پر یہ افغانستان کے پر امن ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
اسرائیلی محاصرے کے باعث مغربی کنارے میں 80,000 فلسطینی طلبہ اسکول جانے سے محروم
امانت داری اہم اخلاقی قدر ہے؛ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کا لحاظ رکھنا…
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) عصر حاضر کی ایک نہایت اہم اور تیزی سے ترقی کرنے…
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔