افغانستان میں مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکا افغان شہر ہرات کی جوادیہ مسجد میں ہوا جب لوگ نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے جس کے نتیجے میں 30 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق دھماکا ممکنہ طور پر کار بم کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد دوسرے حملہ آور نے نمازیوں پر فائرنگ کردی۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ خیال رہے کہ ہرات کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے اور عام طور پر یہ افغانستان کے پر امن ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار