بھارتی حکومت نے مسلمان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے یارو مددگار میانمار کے دس ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر غور شروع کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس سلسلے سیکرٹری داخلہ راجیو میریشن کی زیر صدارت ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کے چیف سیکرٹری براج راج شرما ڈائریکٹر جنرل اف پولیس ایس پی وید نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے وادی میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو نکالنے کے لئے تجاویز پیش کی گئیں۔ ان روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت جموں اور سامبا کے اضلاع میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ان روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کر کے ملک بدر کیا جائے جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق ان روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 6 ہزار تھی جو اب 10 ہزار سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان