نیدرلینڈز کے قومی انتخابات میں دائیں بازو کے شدت پسند رہنما گیرٹ ولڈرز، جنہیں نیدرلینڈز کا ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہا جاتا ہے، بدترین شکست دے دوچار ہوگئے ہیں،
لیکن اس کے باوجود یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ یورپ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی، شدت پسندی اور خصوصاً مسلمانوں کے خلاف تعصب میں کوئی کمی آنے والی ہے۔ اگرچہ یورپی رہنما نیدرلینڈز کے انتخابات میں ولڈرز کی شکست کو امن اور رواداری کی فتح قرار دے رہے ہیں لیکن ترک رہنما خبردار کررہے ہیں کہ یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جاری مہم تیزی پکڑرہی ہے اور خطرہ کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔
دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ میولوت کاووسوگلو نے اسی خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم مارک روٹا کی پیپلزپارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی (VVD) کی کامیابی سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دائیں بازو کی شدت پسندی کو واقعی شکست ہوگئی ہے کیونکہ یورپ کے سوشل ڈیموکریٹ بھی فاشسٹ ولڈرز سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ مستقبل کے سنگین خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ”ان سب کی ذہنیت ایک جیسی ہے۔ آپ یورپ کو کہاں لے جارہے ہیں؟ آپ نے یورپ کا انہدام شروع کردیاہے۔ آپ یورپ کو پستی میں لیجارہے ہیں۔ یورپ میں ایک بار پھر صلیبی جنگیں شروع ہونے جارہی ہیں۔“
ملت ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…