اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر ینگہی لی کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلم اقلیت کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) سے خصوصی بات کرتے ہوئے میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی خصوصی سفیر نے کہا کہ میانمار میں فوج اور پولیس مسلمانوں کے خلاف ’’انسانیت سوز جرائم‘‘ کی مرتکب ہورہی ہیں جب کہ انہیں ان الزامات کی تفتیش کے لیے میانمار کے شورش زدہ علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں موجود پناہ گزینوں سے بات کرکے انہیں معلوم ہوا کہ صورتحال ان کی توقعات سے کہیں بدتر ہے، وہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کو تحقیقات کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب میانمار کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ میانمار کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے الزامات بڑھا چڑھا کر پیش کیے جارہے ہیں جب کہ بعض اوقات اقوامِ متحدہ بھی غلط ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اس سے قبل بھی روہنگی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے پر میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناچکی ہے۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام