Egyptian protesters hold posters showing Sheikh Omar Abdel-Rahman, who is imprisoned in the US, and call for his release outside a court in Cairo, Egypt, Sunday, Feb. 26, 2012. Egypt went forward with a trial Sunday that has plunged relations with the U.S. into the deepest crisis in decades, prosecuting 16 Americans and 27 other employees of pro-democracy groups on charges they used foreign funds to foment unrest. The Arabic writing on the banners reads:"Freedom for Sheikh Omar Abdel Rahman". (AP Photo/Khalil Hamra)
مصر کے شدت پسند اسلامی جنگجو گروپ الجماعۃ الاسلامیہ کے سابق سربراہ شیخ عمر عبدالرحمان امریکا کی ایک جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گذشتہ بیس سال سے زیادہ عرصے سے قید کاٹ رہے تھے اور ان کی عمر 78 سال تھی۔
ان کے بیٹے اور بیٹی نے ہفتے کے روز ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ وہ نابینا شیخ کے نام سے بھی معروف تھے۔ انھیں امریکا کی ایک عدالت نے 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر بم حملے سمیت مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
وہ 1980ء کے عشرے میں مصر میں اسلامی انتہا پسند حلقوں میں ایک اہم شخصیت خیال کیے جاتے تھے۔ان پر مصر کے سابق صدر انورالسادات کے 1981ء میں قتل کی سازش میں ملوّث ہونے کے الزام میں بھی فرد جُرم عاید کی گئی تھی لیکن بعد میں انھیں اس الزام سے بری کردیا گیا تھا۔
شیخ عمر عبدالرحمان 1990ء میں امریکا چلے گئے تھے جہاں وہ بروکلین اور نیو جرسی کی مساجد میں خطیب رہے تھے۔ان پر پانچ سال بعد ”امریکا کے خلاف شہری دہشت گردی کی جنگ مسلط کرنے کی سازش” اور 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس واقعے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان پر اقوام متحدہ سمیت دوسری اہم تنصیبات کو بموں سے اڑانے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام