سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں مسلمانوں کی ایک مسجد کے قریب حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک آپریشن جاری ہے۔ مذکورہ مسجد شہر کے مرکزی سٹیشن کے قریب واقعہ ہے۔
سوئس ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمی ہونے والے تین افراد مسجد کے قریب اسغاس نامی ایک چھوٹی سی گلی میں ملے ہیں۔
اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کون تھا یا اس حملے کی کیا وجوہات ہیں۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور جائے وقوع سے فرار ہو چکا ہے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے ہونے والے اس واقعے میں یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کا نشانہ مسجد ہی تھی۔
مقامی رپورٹس کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور قریبی عمارتوں میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی آبادی کا تقریباً پانچ فیصد حصہ مسلمانوں کا ہے جن میں سے بہت سے لوگ سابقہ یوگوسلاویا سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔
2009 میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت ملک میں مساجد پر نئے مینار بنانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
بی بی سی اردو
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید