ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو وارننگ دی ہے کہ اگر اس نے اذان دینے پر پابندی لگائی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے۔
ترک میڈیا کے مطابق گزشتہ روز استنبول میں منعقدہ بین الاپارلیمانی القدس پلیٹ فارم سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل میں اذان پر پابندی لگانے کی بحث انتہائی خطرناک ہے اس موضوع پر بحث کرنا عقل و منطق کے منافی ہے۔ انھوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ دین، عقائد اور آزادی کی پامالی کرنے والے اس بحث و مباحثے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، گزشتہ روز اسرائیل کے صدر کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران میں نے انھیں اس موضوع کی حساسیت سے آگاہ کیا تھا، مجھے یقین ہے اسرائیلی پارلیمنٹ اس بارے میں دانشمندانہ فیصلہ کریگی۔
اس قسم کی کوششوں سے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں کو صدمہ پہنچے گا ، ملک میں نئے بحران پیدا کرنے کے بجائے امن کے قیام کیلیے کوششیں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو 1967 کی سرحدوں کو بنیاد بناتے ہوئے اور آزاد فلسطینی مملکت کوجس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہے قائم کرنے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان