مانٹریال کی خاتون رانیہ علاؤ جسے کیوبیک کی عدالت کی جج نے اس کے حجاب اتارے بغیر کیس کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کورٹ آف اپیل میں پیش ہو رہی ہے۔
سپیریئر کورٹ کے جج ولبرڈ ڈی کاری نے جج ایلیانا میرنگو کے اس فعل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جج ایلیانا میرنگو کا کہنا تھا کہ عدالت ایک سیکولر جگہ ہے یہاں بالکل اسی طرح جیسے ہیٹ یا دھوپ کا چشمہ پہننے کی اجازت نہیں حجاب پہننے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ جج ولبرڈ ڈی کاری نے اس فیصلے ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ عدالت ایک سیکولر جگہ ہے لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہاں کسی کے مذہبی رسوم و رواج کو زیر بحث نہ لایا جائے۔
جج ڈی کاری نے کہا کہ اس سے زیادہ میری حدود سے باہر ہے۔ رانیہ علاؤ کے وکیل جولیس گرے کا کہنا ہے کہ سپیریئر کورٹ کے جج کو واضح حکم دینا چاہئے تھا اور یہ ان کی حدود سے باہر نہیں تھا۔ اب رانیہ نے کورٹ آف اپیل میں درخواست دی ہے کہ اس معاملے میں واضح فیصلہ دیا جائے کیونکہ کسی فرد کو بھی اپنے مذہبی رسوم و رواج پر عمل کرنے اور لباس پہننے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کو اس لئے انصاف سے محروم نہیں رہنا چاہئے کہ اس نے حجاب پہنا ہوا ہے یا اسی طرح کِپا یا پگڑی پہنی ہوئی ہے۔
اردو ٹائمز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…