میانمار کی فوج نے ریاست ریکھائن میں 30 روہنگیا مسلمانوں کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست ریکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کے دیہاتوں میں سرچ آپریشن کیا گیا جب کہ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران میانمار فوج کے ہاتھوں 30 روہنگیا مسلمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور فوج نے مسلمانوں کے کئی دیہاتوں کو بھی آگ لگادی۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوزوائرل ہوئی ہیں اُس میں میانمار فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں جب کہ سیکڑوں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔
میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق قتل ہونے والے روہنگیا مسمانوں نے فوج پر حملے کئے جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی جب کہ روہنگیا مسلمانوں نے سرکاری میڈیا کے موقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کی فوج نے مسلمانوں کے دیہات پر ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی۔
واضح رہے کہ میانمار کی ریاست ریکھائن کا کنٹرول گزشتہ ایک ماہ سے فوج کے پاس ہے جب کہ ملک کی نوبل امن ایوارڈ یافتہ صدر آنگ سان سوچی نے اس تمام تر صورت حال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انہوں نے غیر ملکی سفارتکاروں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان