Syrians gather at the site of a bomb attack in Syria's northeastern city of Qamishli on July 27, 2016. A double bomb attack killed at least 14 people including civilians and left dozens wounded in a Kurdish-majority city in northeast Syria, the Syrian Observatory for Human Rights said. / AFP PHOTO / DELIL SOULEIMAN
شام کے کرد اکثریتی شمال مشرقی شہر قامشلی میں بدھ کے روز ایک خودکش ٹرک بم دھماکے میں اڑتالیس افراد ہلاک اور کم سے کم ایک سو چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔داعش نے اس خودکش بم کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری گاڑی کو قامشلی کے مغربی حصے میں دھماکے سے اڑایا ہے۔
شامی ذرائع ابلاغ نے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ قامشلی میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں لیکن بعد میں شہر سے ذرائع اور برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے وضاحت کی ہے کہ پہلے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں گیس کا ایک ٹینک پھٹنے سے دوسرا زوردار دھماکا ہوا تھا۔
جس علاقے میں یہ بم دھماکا ہوا ہے وہاں مقامی خود مختار کرد انتظامیہ کے متعدد وزراء کے مکانات واقع ہیں۔داعش سے وابستہ اعماق نیوز ایجنسی اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ٹرک بم دھماکا تھا اور اس میں کرد انتظامیہ کے دفاتر پر مشتمل ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔داعش کے جنگجو قبل ازیں بھی قامشلی اور دوسرے کرد اکثریتی شہروں میں بم دھماکے کر چکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان