عسکری عدالت ملزمان سے سنجیدگی سے نمٹ لے

اہل‌سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے سکیورٹی فورسز اور مسلح اداروں کے بعض افراد کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر شکوہ کرتے ہوئے عسکری عدالت کے ذمہ داروں سے درخواست کی ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔
سنی آن‌لائن کی رپورٹ کے مطابق، شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے تیرہ مئی دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں عوامی شکایات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے عوام کے لیے بعض اوقات مسائل پیش آتے ہیں اور بعض مسلح اداروں کے اہلکاروں کی وجہ سے لوگ جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: کوئی بھی برادری پوری طرح پاک و محفوظ نہیں ہے جس میں خطاکار لوگ شامل نہ ہوں حتی کہ علمائے کرام اور کالجوں کے اساتذہ و طلبہ میں بھی ایسے لوگ موجود ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح مسلح اہلکاروں میں بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو اسلامی انقلاب کو مانتے بھی نہیں ہیں؛ البتہ ایسے افراد کم ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: ممکن ہے ایسے شرپسند عناصر مسلح اداروں میں اچھے لوگوں کو ناراض کریں۔ لہذا اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آتاہے اور عوام نقصان سے دوچار ہوتے ہیں، ملزمان سے سنجیدگی سے نمٹ لینا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔
مولاناعبدالحمید نے ملزمان کے ٹرائل کے فوائد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر عسکری عدالت کے ذمہ داراں سختی سے خطاکاروں اور ملزم اہلکاروں سے نمٹ لیں، یہ خود مسلح اور حساس اداروں کی خدمت ہوگی۔ قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور جو شخص قانون کی خلاف ورزی کرتاہے، اسے جوابدہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: بعض کیسز پیش آتے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور عوام کا حق ضائع ہوتاہے۔ ملکی قوانین اور اسلام کی رو سے عوام کی جان و مال محفوظ ہے۔ لہذا ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے کہ عوام کو تسلی حاصل ہوجائے اور انہیں اطمینان ہو کہ عدل و انصاف سے کیس کی پیروی ہوچکی ہے۔
شیخ‌الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: انصاف و عدل کا نفاذ بہت اہم ہے۔ عدل کے نفاذ سے امن حاصل ہوتاہے اور بھائی چارہ کو تقویت و استحکام ملتاہے۔ ہم عسکری عدالت کے ذمہ داروں کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں اور ہمیں امید ہے اللہ تعالی ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: عسکری عدالت کے عہدیداروں کی سب سے بڑی توفیق ’عدل کا نفاذ‘ اور لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا ہے۔ ایک طرف حکومت کا اہلکار ہے اور دوسری طرف ایک عام شہری ہے جو شاید خود کیس بنانے اور اس کی پیروی کے قابل بھی نہ ہو۔ ایسی صورت میں انصاف کی فراہمی حقیقت میں بہت مشکل ہے، لیکن اس کا اجر بہت ہے اور اس کے بہت بڑے نتائج نکلیں گے۔

baloch

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

3 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago