روس کی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’النصرہ فرنٹ‘ کے جنگجوؤں نے شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں ایک بڑی کارروائی اور حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن کاٹنے کے لیے اپنی قوت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق روس کی مسلح افواج کے مرکزی آپریشنل کنٹرول روم کے سربراہ جنرل سیرگی روڈسکوی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ النصرہ محاذ کے 9500 جنگجوؤں نے حلب میں ایک بڑے حملے کی تیاری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیم کے جنگجو جنوب مغربی حلب اور شمالی حلب میں منظم ہو رہے ہیں۔ ان کا ہدف حلب پر حملہ کے ساتھ ساتھ حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن منطقع کرنا ہے۔
روسی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام اور روس کی سرکاری فوجیں النصرہ محاذ کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت روس کا حلب پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مسٹر سیرگی روڈ سکوی کا کہنا تھا کہ شام میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی قائم ہے تاہم بعض مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی نوٹ کی گئی ہیں۔
العربیہ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام