ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں فوجی اہلکاروں کی بس کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک جب کہ 60سے زائد زخمی ہوگئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کےمطابق انقرہ میں فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی بس کے قریب کار بم دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔ نشریاتی ادارے کی رپورٹ کےمطابق واقعہ ترکی کی پارلیمنٹ اور فوجی ہیڈ کوارٹر کے قریب پیش آیا جس میں فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والی بس فوجی اہلکاروں کو لے کر قریبی فوجی عمارت میں جارہی تھی تاہم جیسے ہی بس عمارت کے قریب پہنچی تو بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا ہوگیا۔ دھماکے کے بعدترکی میں تمام سیکیورٹی ایجنسیزکو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے جب کہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مزید دھماکوں کا خطرہ ہے۔
ترکی کے نائب وزیر اعظم باقر بوزدک نے حملے کو ’’دہشت گرد کارروائی‘‘ قرار دیا ہے جب کہ دھماکے کے بعد ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے اپنا دورہ برسلز منسوخ کر دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کا کہنا ہےکہ دھماکے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں مظاہرے کے دوران ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 97 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام